جمعرات 11 جون 2026 - 15:49
مباہلہ: صحیفۂ صداقت اور عظمتِ اہلِ بیتؑ کا ابدی منشور

حوزہ/تاریخِ اسلام کے بعض ایام ایسے ہیں جو محض تقویم کے اوراق پر ثبت تاریخیں نہیں بلکہ حقائق کے روشن مینار ہیں۔ ان ہی درخشاں اور جاوداں دنوں میں ایک دن عیدِ مباہلہ کا بھی ہے؛ وہ دن جب آسمان نے زمین پر صداقت کی ایسی فتح دیکھی جس کی مثال تاریخِ ادیان میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ دن فقط ایک مناظرۂ عقائد کا اختتام نہیں بلکہ حق کے وقار، نبوت کی حقانیت، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عظمت اور جھوٹ کے سامنے سچائی کی سربلندی کا اعلان ہے۔

تحریر: ڈاکٹر سید محمد افضل زیدی میرٹھ

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ اسلام کے بعض ایام ایسے ہیں جو محض تقویم کے اوراق پر ثبت تاریخیں نہیں بلکہ حقائق کے روشن مینار ہیں۔ ان ہی درخشاں اور جاوداں دنوں میں ایک دن عیدِ مباہلہ کا بھی ہے؛ وہ دن جب آسمان نے زمین پر صداقت کی ایسی فتح دیکھی جس کی مثال تاریخِ ادیان میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ دن فقط ایک مناظرۂ عقائد کا اختتام نہیں بلکہ حق کے وقار، نبوت کی حقانیت، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عظمت اور جھوٹ کے سامنے سچائی کی سربلندی کا اعلان ہے۔

قرآنِ مجید نے اس واقعہ کو اپنے دامن میں محفوظ کر لیا تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ جب حق اپنی آخری دلیل پیش کرتا ہے تو باطل کے پاس پسپائی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ ارشادِ رب العزت ہے:
*﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾*
(سورۂ آل عمران: 61)

ہجرت کے دسویں سال نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ ان کے علما نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کی۔ قرآن نے واضح فرمایا کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، مگر جب دلائلِ روشن کے باوجود انہوں نے ہٹ دھرمی اختیار کی تو خداوندِ عالم کی جانب سے مباہلہ کا حکم نازل ہوا۔

مفسرین و محدثین نے متفقہ طور پر نقل کیا ہے کہ جب مباہلہ کا وقت آیا تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ پوری امت کو نہیں بلکہ صرف پانچ ہستیوں کو لے کر میدان میں تشریف لائے: امام حسن مجتبیٰؑ، امام حسینؑ، حضرت فاطمۃ الزہراؑ اور امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ۔ اس وقت "أبنائنا" کے مصداق حسنین کریمینؑ، "نسائنا" کا مصداق سیدہ کائناتؑ اور "أنفسنا" کا مصداق علی ابن ابی طالبؑ قرار پائے۔ یہی وجہ ہے کہ آیتِ مباہلہ کو فضائلِ اہلِ بیتؑ کی سب سے عظیم قرآنی دلیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

امام فخر الدین رازی، زمخشری، طبری، سیوطی، ابنِ کثیر اور دیگر متعدد مفسرین نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ زمخشری نے "الکشاف" میں لکھا ہے کہ آیتِ مباہلہ اہلِ بیتؑ کی فضیلت پر قوی ترین دلائل میں سے ہے۔ علامہ طبرسی نے "مجمع البیان" میں اور علامہ طباطبائی نے "المیزان" میں اس آیت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اہلِ بیتؑ کے اس مقام کو نمایاں کیا ہے۔

جب نجران کے عیسائیوں نے دیکھا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ ایسے پاکیزہ چہرے لے کر آئے ہیں جن کے متعلق خود آپؐ نے فرمایا تھا کہ یہ میرے اہلِ بیت ہیں، تو ان کے بزرگوں کے دل لرز اٹھے۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ ان کے پیشوا نے اپنے ساتھیوں سے کہا:

"میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے دعا کریں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو وہ ہٹ جائے گا؛ ان سے مباہلہ نہ کرنا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔"

چنانچہ انہوں نے مباہلہ سے انکار کیا اور صلح و جزیہ کو قبول کر لیا۔ یوں بغیر کسی تلوار کے، بغیر کسی جنگ کے، حق نے اپنی فتح کا پرچم بلند کر دیا۔

مباہلہ کا واقعہ صرف ساتویں صدی عیسوی کا ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں جھانک کر ہم اپنے زمانے کی صورت حال کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ آج بھی معرکہ وہی ہے، صرف میدان بدل گیا ہے۔

اس دور میں تلواروں کی جگہ ذرائع ابلاغ نے لے لی ہے، محاذوں کی جگہ اسکرینوں نے لے لی ہے، اور افواہوں نے کبھی کبھی حقیقت کے چہرے کو دھندلا دیا ہے۔ جھوٹ کو خبر، پروپیگنڈے کو تجزیہ، تعصب کو دانش اور فریب کو سیاست کا نام دیا جا رہا ہے۔ انسان ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے مگر اخلاقی اقدار کے زوال کا منظر بھی کم ہولناک نہیں۔

سیاست میں جھوٹ، تجارت میں جھوٹ، معاشرت میں جھوٹ، صحافت میں جھوٹ، تعلیم میں جھوٹ، وعدوں میں جھوٹ، دعووں میں جھوٹ، اور بعض اوقات مذہبی عنوانات کے پردے میں بھی جھوٹ۔

ایسے ماحول میں عیدِ مباہلہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقانیت کا معیار اکثریت نہیں بلکہ صداقت ہے۔ سچائی کبھی ہجوم کی محتاج نہیں ہوتی۔ میدانِ مباہلہ میں ایک طرف پورا وفد تھا اور دوسری طرف پنجتنِ پاکؑ؛ لیکن وزن تعداد سے نہیں، کردار سے متعین ہوا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ علم کے باوجود ہٹ دھرمی اختیار کرنا انسان کو ہلاکت کے قریب لے جاتا ہے۔ آیتِ مباہلہ کا نزول دراصل ان لوگوں کے بارے میں ہوا جو دلیل آجانے کے بعد بھی اپنی بات پر اڑے رہے۔ یہی رویہ آج بھی معاشرتی انتشار، فکری جمود اور فرقہ وارانہ نفرتوں کا سبب بنتا ہے۔

مباہلہ کا پیغام لعنت سے زیادہ صداقت کی دعوت ہے۔ لعنت دراصل اس انجام کا نام ہے جو جھوٹ، فریب، نفاق اور حق دشمنی کا لازمی نتیجہ بن جاتا ہے۔ جبکہ صداقت وہ روشنی ہے جو انسان کو خدا کی قربت، معاشرے کو امن اور قوموں کو عزت عطا کرتی ہے۔

سچ اعتماد پیدا کرتا ہے، جھوٹ بدگمانی کو جنم دیتا ہے۔

سچ دلوں کو جوڑتا ہے، جھوٹ رشتوں کو توڑ دیتا ہے۔

سچ انسان کو بلند کرتا ہے، جھوٹ انسان کو اپنے ہی بوجھ تلے دبا دیتا ہے۔

سچ حسینیت ہے، اور جھوٹ یزیدیت۔

سچ وفا ہے، جھوٹ بے وفائی۔

سچ رحمت کا دروازہ ہے، اور جھوٹ لعنت کا راستہ۔

عیدِ مباہلہ درحقیقت تجدیدِ عہد کا دن ہے؛ یہ عہد کہ ہم صداقت کو اپنا شعار بنائیں گے، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا سرمایہ قرار دیں گے، حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں گے اور باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کریں گے۔

آج جب ہم روزِ مباہلہ کی خوشی مناتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری زبانیں سچ کی ترجمان ہیں؟ کیا ہمارے معاملات صداقت کے آئینہ دار ہیں؟ کیا ہمارے قلم حق کے امین ہیں؟ اگر نہیں تو مباہلہ کا پیغام ابھی ہم تک مکمل طور پر نہیں پہنچا۔

خداوندِ عالم ہمیں اہلِ صداقت کے قافلے میں شامل فرمائے، سچائی کو ہماری شناخت بنائے، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت و ولایت پر ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے کذب، نفاق اور فریب سے محفوظ فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha